القیامہ آئت 36



 قرآن کا انسان سے ایک بنیادی سوال

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ مذہب انسان کو سوال کرنے سے روکتا ہے، اسے غوروفکر کے بجائے محض تقلید کا درس دیتا ہے اور عقل کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ لیکن قرآن کا مطالعہ اس تاثر کو یکسر بدل دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن محض احکام کی کتاب نہیں، بلکہ سوالات کی کتاب بھی ہے۔ اس میں بار بار انسان کو کائنات، اپنی ذات، تاریخ، زندگی اور موت کے بارے میں سوچنے کی دعوت دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود خالقِ کائنات اپنے بندوں سے مسلسل سوال کرتا ہے۔
سورۂ قیامہ کی چھتیسویں آیت بھی ایک ایسا ہی سوال ہے:
**﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى﴾**
’’کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟‘‘
یہ سوال محض مذہبی نہیں، بلکہ فلسفے، اخلاقیات اور انسانی وجود کے پورے تصور سے متعلق ہے۔ قرآن انسان سے پوچھتا ہے: کیا وہ واقعی یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، اس کے اعمال کی کوئی جواب دہی نہیں اور موت کے بعد اس سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا؟
اس سوال کی معنویت کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے لفظ ’’سُدی‘‘ کو جاننا ضروری ہے۔ عربوں کے ہاں جب کوئی اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی، نہ دودھ دیتی، نہ بچے جنتی اور نہ اس کی دیکھ بھال میں کوئی معاشی فائدہ باقی رہتا، تو اسے ریوڑ سے الگ کرکے بیابان میں چھوڑ دیا جاتا۔ وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی، جہاں چاہتی چرتی، جہاں چاہتی آرام کرتی اور اس کی خبر لینے والا کوئی نہ ہوتا۔
رفتہ رفتہ اس کی حیثیت اتنی کم ہو جاتی کہ کوئی شخص اس کی ملکیت کا دعویٰ بھی نہ کرتا۔ وہ زمین پر جگہ تو گھیرتی تھی، فضا سے آکسیجن بھی لیتی تھی، لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی تھی۔ عرب ایسی بے نگہبان اور بے مصرف اونٹنی کو ’’سُدی‘‘ کہتے تھے۔
قرآن اسی لفظ کو انسان کے لیے استعمال کرتا ہے، لیکن ایک سوالیہ انداز میں: کیا انسان بھی خود کو ایسی ہی مخلوق سمجھتا ہے، جسے اس دنیا میں بے مقصد چھوڑ دیا گیا ہو؟
یہ سوال انسان کو اپنی زندگی کے ان مقاصد پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتا ہے جنہیں اس نے کامیابی کا معیار بنا رکھا ہے۔ آج کا انسان صبح سے شام تک روزگار، جائیداد، اعلیٰ تعلیم، بہتر مستقبل، غیر ملکی شہریت، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور مادی آسائشوں کے تعاقب میں مصروف ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بذاتِ خود بری نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی انسان کی آخری منزل ہے؟
اگر زندگی صرف ملازمت، کاروبار، شادی، گھر اور شہرت تک محدود ہے، تو پھر انسان اور دیگر جانداروں میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟ جانور بھی اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، خوراک تلاش کرتے ہیں اور اپنی نسل کو آگے بڑھاتے ہیں۔ لیکن انسان کو ان سب سے بڑھ کر عقل، اخلاقی شعور اور خیر و شر میں تمیز کی صلاحیت عطا کی گئی ہے۔
قرآن اسی لیے انسان کو بار بار اس کی اصل حیثیت یاد دلاتا ہے:
**﴿اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ﴾**
’’کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہیں لوٹائے جاؤ گے؟‘‘ (سورۂ مؤمنون: 115)
قرآن دنیا سے فرار کا درس نہیں دیتا۔ وہ انسان کو محنت، علم، تجارت اور ترقی سے نہیں روکتا، بلکہ اسے یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا منزل نہیں، راستہ ہے۔ اسی لیے وہ کہتا ہے:
**﴿وَابْتَغِ فِيْمَا آتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا﴾**
’’اور اللہ نے تمہیں جو کچھ عطا کیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کے گھر کی تلاش کرو اور دنیا میں اپنے حصے کو نہ بھولو۔‘‘ (سورۂ قصص: 77)
اصل خطرہ یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کامیاب ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود اپنے وجود کے اصل مقصد کو فراموش کر بیٹھے۔ جب زندگی وحی کے نور سے خالی ہو جائے، موت محض ایک حیاتیاتی حادثہ بن جائے اور آخرت کا تصور ذہن سے محو ہو جائے، تو انسان اپنی تمام تر ترقی کے باوجود ’’سُدی‘‘ بن جاتا ہے۔
ایسا انسان خواہ ستاروں کی گزرگاہیں دریافت کر لے، سمندروں کی تہوں کو چیر ڈالے اور زمین کے پوشیدہ خزانوں پر قبضہ کر لے، اس کی مصروفیت اسے مقصد نہیں دے سکتی۔
شاید اسی لیے قرآن انسان سے بار بار سوال کرتا ہے۔ وہ سوال کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ انسان کو سب سے بڑے سوالات سے فرار ہونے سے روکتا ہے: میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ اور مجھے کہاں لوٹ کر جانا ہے؟
سورۂ قیامہ کی آیت 36 دراصل انسان کو جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اپنے آپ سے پوچھے: کیا میں محض ’’سُدی‘‘ ہوں، یا میری زندگی کا کوئی بلند تر مقصد بھی ہے؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

الرعد: ایت 11

غلام سے نجات ولوانے کا صلہ

صرف یہود نہیں، ہم بھی