اشاعتیں

القیامہ آئت 36

تصویر
  قرآن کا انسان سے ایک بنیادی سوال اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ مذہب انسان کو سوال کرنے سے روکتا ہے، اسے غوروفکر کے بجائے محض تقلید کا درس دیتا ہے اور عقل کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ لیکن قرآن کا مطالعہ اس تاثر کو یکسر بدل دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن محض احکام کی کتاب نہیں، بلکہ سوالات کی کتاب بھی ہے۔ اس میں بار بار انسان کو کائنات، اپنی ذات، تاریخ، زندگی اور موت کے بارے میں سوچنے کی دعوت دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود خالقِ کائنات اپنے بندوں سے مسلسل سوال کرتا ہے۔ سورۂ قیامہ کی چھتیسویں آیت بھی ایک ایسا ہی سوال ہے: **﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى﴾** ’’کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟‘‘ یہ سوال محض مذہبی نہیں، بلکہ فلسفے، اخلاقیات اور انسانی وجود کے پورے تصور سے متعلق ہے۔ قرآن انسان سے پوچھتا ہے: کیا وہ واقعی یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، اس کے اعمال کی کوئی جواب دہی نہیں اور موت کے بعد اس سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا؟ اس سوال کی معنویت کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے لفظ ’’سُدی‘‘ کو جاننا ضروری ہے۔ عربوں کے ہاں جب کوئی اونٹنی اپن...

الرعد: ایت 11

تصویر
  قرآنِ مجید کا یہ اعلان کہ: ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لے آئے۔‘‘ (الرعد: 11) محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور تبدیلی کے ایک آفاقی اصول کی طرف اشارہ بھی ہے۔ یہ آیت انسان کو اس بنیادی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ بیرونی دنیا میں پائیدار تبدیلی کا آغاز انسان کے باطن سے ہوتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جدید نیورو سائنس بھی گزشتہ چند دہائیوں میں ایک ایسی ہی حقیقت تک پہنچی ہے۔ کبھی سائنس دانوں کا خیال تھا کہ بالغ ہونے کے بعد انسانی دماغ تقریباً ایک جامد ساخت اختیار کر لیتا ہے، مگر بیسویں صدی کے آخری عشروں میں ہونے والی تحقیقات نے اس تصور کو بدل دیا۔ ماہرینِ اعصاب نے دریافت کیا کہ انسانی دماغ مسلسل تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صلاحیت کو نیورو پلاسٹیسٹی    کہا جاتا ہے۔ نیورو پلاسٹیسٹی سے مراد یہ ہے کہ انسان کے خیالات، عادات، جذبات اور مسلسل دہرائے جانے والے اعمال دماغ کے عصبی راستوں   کو بدل سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص روزانہ ایک ہی طرزِ فکر اختیار کرتا ہے، تو دماغ کے مخصوص عصبی خلیوں کے درمیان روابط مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ ...

(سورۃ آل عمران: آیت 159)

تصویر
کہتے ہیں بعض سال تاریخ میں صرف کیلنڈر بدلنے کے لیے نہیں آتے، بلکہ وہ قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ انیس سو اناسی ایسا سال تھا، جس نے مشرقِ وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک زمین ہلا دی، تخت الٹے، جنگیں چھڑیں اور کئی چنگاریاں سلگیں جو آج بھی دہائیوں بعد شعلوں کی صورت میں روشن ہیں۔ اسی سال ایران میں بادشاہت ختم ہوئی، مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا، افغانستان پر سوویت یونین نے لشکر کشی کی، پاکستان میں مذہبی شدت پسندی نے جڑیں پکڑیں، اور چین نے اپنی معیشت دنیا کے لیے کھول دی۔ یہ سب ایک ہی سال میں ہوا اور آج بھی ان کے اثرات ہماری سیاست، معیشت اور سلامتی پر چھائے ہوئے ہیں۔ فروری میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں انقلاب آیا، بادشاہت کا تختہ الٹ گیا اور ایک اسلامی نظریاتی ریاست ابھری۔ آج بھی وہ فیصلے اپنی قیمت انسانی جانوں اور سیاسی بحران کی صورت میں چکا رہے ہیں۔ مصر: امن اور مفاد مارچ میں مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا، اپنا مقبوضہ علاقہ واپس لیا اور عالمی سطح پر امن پسند کے طور پر سامنے آیا۔ فلسطینیوں اور عرب اتحاد پر اس کے منفی اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ افغانستان: سوویت یونین کا چیلنج دسمبر می...

"بنیان مرصوص"

تصویر
  "بنیان مرصوص" جب کوئی قوم اپنی سالمیت، نظریات اور مقدس مقاصد کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑی ہو، تو اس کی صفوں میں جو نظم، اخلاص اور اتحاد پیدا ہوتا ہے، وہ صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ ایک روحانی طاقت کی علامت ہوتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے کسی فوجی یا نظریاتی کاروائی کو  "بنیان مرصوص"  کا نام دینا کوئی محض اتفاق نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا قرآنی تصور اور اسلامی فکری اساس موجود ہے۔ "بنیان مرصوص" کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ الصف میں آیا ہے: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرْصُوصٌ" (الصف: 4) "بیشک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر ایسے لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔" یہ آیت صرف ایک فوجی نظم کی تصویر نہیں، بلکہ ایمانی یکجہتی، مقصدِ واحد، اور قربانی کے اس جذبے کا آئینہ ہے جو کسی قوم کو ناقابلِ شکست بنا دیتا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ: نبی اکرم ﷺ نے مومنوں کی باہمی وحدت کو یوں بیان فرمایا: "المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضًا" (بخاری و مسلم) "مومن، موم...

غلام سے نجات ولوانے کا صلہ

تصویر
  سورہ البلد ایت 13 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انسانی تاریخ کے ماتھے پر غلامی وہ بدنما داغ ہے، جو ہزاروں سال بعد بھی پوری طرح مٹا نہیں۔ مصر کی تہذیب ہو یا روم کی سلطنت، یونان کی دانش گاہیں ہوں یا عرب کی ریتلی بستیوں کا معاشرہ — ہر جگہ انسان نے انسان کو زنجیروں میں جکڑا، بازاروں میں بیچا، اور طاقتور کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ایسے تاریک دور میں قرآن مجید نے وہ جملہ اتارا، جس نے غلامی کو ختم کرنے کی بنیاد رکھی۔ "فَكُّ رَقَبَةٍ" (گردن چھڑانا، غلام کو آزاد کرنا) یہ محض نیکی کا بیان نہیں تھا، بلکہ سماجی انقلاب کا آغاز تھا۔ نبی کریم ﷺ نے نہ صرف غلاموں کو آزادی کی تلقین کی، بلکہ ان کے ساتھ برابری اور عزت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ اسلام کی تدریجی حکمت عملی نے آہستہ آہستہ غلامی کی بنیادیں ہلا دیں۔ اسلام کے صدیوں بعد مغرب نے بھی غلامی کی تباہ کاریوں کو تسلیم کیا: اٹھارہ سو سات: برطانیہ نے غلاموں کی تجارت پر پابندی لگائی اٹھارہ سو تینتیس: برطانیہ میں غلامی کا قانونی خاتمہ اٹھارہ سو تریسٹھ: امریکہ میں Emancipation Proclamation اٹھارہ سو پینسٹھ: تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے امریکہ میں غلامی کا ا...

بھوک سے نجات

تصویر
  سورہ بقرہ آیت 261 تیسری دنیا کے ممالک میں عوام معاشی تنگ دستی اور غربت کا شکار ہیں ۔ سولہ گھنٹے اور دو دو جگہ ملازمت کر کے بھی لوگ مہنگائی کی چکی کے عذاب میں پس رہے ہیں  — ہر جگہ ایک ہی حل بتایا جاتا ہے: محنت کرو، منصوبہ بندی کرو، بچت کرو، اور عقل سے کام لو۔ یہ مادی نقطہ نظر ہے جو اس دور کا سب سے بڑا اصول بن چکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف یہی راستہ زندگی کے بحرانوں سے نکلنے کا واحد ذریعہ ہے؟ راولپنڈی کے کاروباری مرکز صدر میں ایک چھوٹی سی مسجد کے باہر میں نے اپنی آنکھوں سے ایک ایسا منظر دیکھا، جس نے اس سوال کا عملی جواب دے دیا۔ ایک عورت، جس کی ظاہری حالت بتا رہی تھی کہ غربت اور فاقوں نے اُسے چُور کر رکھا ہے، اُس نے مسجد کے چندہ بکس میں دس روپے ڈالے  مجھے حیرت ہوئی۔  اُس سے پوچھا  خود گزارا مشکل ہے تو یہ دس روپے کیوں؟ اُس کی کہانی سُن کر مادی سوچ کی دیواریں میرے ذہن میں ٹوٹنے لگیں۔   وہ بولی کہ چند ماہ پہلے اُس کی بیٹی کی شادی طے ہوئی، لیکن جیب خالی تھی۔  جمعہ والے دن لاوڈ سپیکر پر مسجد سے واعظ کی آواز سنائی دی  "صدقہ اور اللہ کی راہ میں ...

بہشتی دروازہ

تصویر
   بہشتی دروازہ   روایت کے مطابق یہ دروازہ سال میں مخصوص ایام میں کھولا جاتا ہے اور لاکھوں افراد اس دروازے سے گزرنے کے لیے دور دور سے یہاں آتے ہیں۔ صدیوں سے یہ عقیدہ عام ہے کہ جو شخص اس دروازے سے گزر جائے، اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ جنت کا مستحق قرار پاتا ہے۔ یہ روایت، جو صوفی بزرگ حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ کی نسبت سے منسوب ہے، برصغیر پاک و ہند کی صوفیانہ تاریخ اور عوامی عقائد میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دینِ اسلام میں اس نوعیت کی نجات اور مغفرت کی ایسی مخصوص 'زمینی علامت' یا 'مخصوص راستہ' کوئی شرعی بنیاد رکھتا ہے؟ اور اگر نہیں، تو ایسی روایات اور عقائد کا مقام اور دائرہ کار کیا ہونا چاہیے؟ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ کی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ، ندامت، اعمالِ صالحہ، حقوق العباد کی ادائیگی اور اللہ کی رحمت بنیادی ذرائع ہیں۔ سورہ زمر میں ارشاد ہے: "اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ معاف فرما دیتا ہے۔"  (سورۃ الزمر: ۵۳) یہ آیت ہمیں اس ام...