(سورۃ آل عمران: آیت 159)







کہتے ہیں بعض سال تاریخ میں صرف کیلنڈر بدلنے کے لیے نہیں آتے، بلکہ وہ قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ انیس سو اناسی ایسا سال تھا، جس نے مشرقِ وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک زمین ہلا دی، تخت الٹے، جنگیں چھڑیں اور کئی چنگاریاں سلگیں جو آج بھی دہائیوں بعد شعلوں کی صورت میں روشن ہیں۔

اسی سال ایران میں بادشاہت ختم ہوئی، مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا، افغانستان پر سوویت یونین نے لشکر کشی کی، پاکستان میں مذہبی شدت پسندی نے جڑیں پکڑیں، اور چین نے اپنی معیشت دنیا کے لیے کھول دی۔ یہ سب ایک ہی سال میں ہوا اور آج بھی ان کے اثرات ہماری سیاست، معیشت اور سلامتی پر چھائے ہوئے ہیں۔

فروری میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں انقلاب آیا، بادشاہت کا تختہ الٹ گیا اور ایک اسلامی نظریاتی ریاست ابھری۔ آج بھی وہ فیصلے اپنی قیمت انسانی جانوں اور سیاسی بحران کی صورت میں چکا رہے ہیں۔

مصر: امن اور مفاد
مارچ میں مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا، اپنا مقبوضہ علاقہ واپس لیا اور عالمی سطح پر امن پسند کے طور پر سامنے آیا۔ فلسطینیوں اور عرب اتحاد پر اس کے منفی اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

افغانستان: سوویت یونین کا چیلنج
دسمبر میں سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں۔ یہ جنگ دس سال تک جاری رہی اور افغان عوام، پاکستان اور مغربی طاقتوں پر گہرے اثرات چھوڑ گئی۔ سوویت یونین کو نقصان ہوا، جبکہ انسانی جانوں اور وسائل کا بحران آج بھی جاری ہے

پاکستان: اسلام کے نام پر تبدیلی
اسی سال جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر قوانین نافذ کیے، مدارس کا جال بچھایا اور افغان جہاد میں شمولیت نے پاکستان کی مذہبی اور سیاسی شناخت بدل دی۔ حکومت اور شدت پسند گروپوں کو طاقت ملی، جبکہ عوام انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے مسائل میں الجھ گئے۔

چین: مشورے کی برکت
چین نے اپنی معیشت دنیا کے لیے کھول دی اور یہ فیصلہ مشورے کی برکت سے کامیاب ہوا۔ حکمران کمیونسٹ پارٹی کی شورائی مجلس میں چار سو پچاس، اور حکومت کے مشاورتی شورائی ادارے میں دو ہزار چھ سو ممبران شامل ہیں۔ فیصلے غور و فکر اور مشورے کے بعد نافذ کیے گئے، جس سے پالیسی سازی مضبوط اور مربوط ہوئی اور چین آج دنیا کی بڑی اقتصادی طاقتوں میں شامل ہے۔

قرآن: سب کے لیے کھلی ہدایت
قرآن ، نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ہر انسان اور ہر معاشرے کے لیے رہنمائی کا منبع ہے،۔ مشورہ کرنے اور دانشمندانہ فیصلے کرنے کی تاکید کرتا ہے
"اور اپنے امور میں آپس میں مشورہ کرو…" (سورۃ آل عمران: ایک سو انناسٹھ)

جو قرآن کی ہدایت پر عمل کرتا ہے، وہ سرخرو ہوتا ہے۔ جو من مرضی اور بغیر مشورے فیصلے کرتا ہے، اسے انسانی جانوں یا معاشی نقصان کی صورت میں قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ایران، افغانستان، پاکستان اور دیگر جگہوں کے حالات آج بھی اس کی مثال ہیں۔

چین کا فیصلہ مشورے اور دانشمندانہ غور و فکر کی برکت سے کامیاب ہوا، جبکہ قرآن کی ہدایت کی نافرمانی کرنے والوں کو آج بھی اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ یہ سبق واضح کرتا ہے کہ دانشمندانہ مشورہ اور ہدایت کی پیروی ہی فرد اور قوم کو سرخرو کر سکتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

خسارۂ ذات

غلام سے نجات ولوانے کا صلہ

صرف یہود نہیں، ہم بھی