خسارۂ ذات
خسارۂ ذات
دنیا کا ہر انسان اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں نفع اور نقصان کے تجربے سے گزرتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا نقصان وہ نہیں جو جیب سے ہوتا ہے، بلکہ وہ ہے جو
انسان کے وجود کے اندر ہوتا ہے
جسے قرآن کی زبان میں “خسارہ” کہا گیا ہے۔
یہ خسارۂ ذات ہے، جب انسان اپنی سچائی، اپنی روحانیت، اپنے ضمیر اور اپنی انسانیت سے دور جا پڑتا ہے۔
ایک مزدور اگر دن بھر پسینہ بہائے اور شام کو اجرت نہ پائے، تو یہ اس کے وجود کا خسارہ ہے۔ ایک ملازم پورا سال محنت کرے مگر ترقی کی فہرست میں اس کا نام نہ ہو، تو یہ اس کے حوصلے کا نقصان ہے۔ ایک طالب علم سارا سال محنت کرے اور امتحان میں ناکام ہو جائے، تو یہ اس کی ذات کا زیاں ہے۔ ایک سرمایہ کار اپنی عقل کے مطابق سرمایہ لگائے اور بازار میں حصص گر جائیں، تو یہ اس کے اعتماد کا خسارہ ہے۔
لیکن ان سب سے بڑھ کر وہ لمحہ خطرناک ہے جب انسان اپنے ضمیر سے بے وفائی کرتا ہے۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے، وعدہ توڑتا ہے، یا حق جانتے ہوئے خاموش رہتا ہے - تب وہ اپنی ذات کی بنیاد کھو دیتا ہے۔ یہی اندرونی زوال خسارۂ ذات کہلاتا ہے۔
قرآن کا فلسفۂ خسارہ
قرآن مجید انسان کے اس نقصان کو یوں بیان کرتا ہے:
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ > (سورۃ العصر ) زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی وصیت کی۔ یہ آسورہ ہمیں سمجھاتی ہے کہ انسان کی اصل نجات چار بنیادوں پر قائم ہے: ایمان، نیک عمل، حق گوئی، اور صبر۔ یہی وہ چار ستون ہیں جو انسان کو اپنی ذات کے زوال سے بچا سکتے ہیں۔
نبی اکرم ﷺ کی بصیرت افروز تعلیمات
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
“دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فارغ وقت۔” (صحیح بخاری)
یعنی انسان اپنی قیمتی دولتوں - صحت اور وقت - کو خود ضائع کرتا ہے۔ جو شخص اپنی صحت کو بے مقصد زندگی میں کھپا دیتا ہے اور اپنے وقت کو غفلت میں گنوا دیتا ہے، وہ دراصل اپنی ذات کے سرمائے کو برباد کرتا ہے۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: “حقیقی دولت دراصل دل کا غنی ہونا ہے۔” (صحیح بخاری)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جس کا دل مطمئن نہیں، وہ دنیا کی ہر دولت پا کر بھی خسارے میں رہتا ہے، اور جس کا دل مطمئن ہو، وہ فقر میں بھی امیر ہے۔
اہلِ فکر و دانش کی آرا
امام غزالیؒ فرماتے ہیں: “انسان کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ اپنی روح کی اصلاح کے بغیر دنیا کی کامیابی چاہے۔”
مولانا رومؒ نے کہا: “اگر تُو نے اپنی جان کو نہ پہچانا تو سمجھ لے کہ تُو نے سب کچھ کھو دیا۔”
علامہ اقبالؒ نے اسی خیال کو ایک شعر میں امر کر دیا:
“خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”
یہی “خودی” انسان کی اصل پونجی ہے، اور جو اسے گنوا دے، وہ سب سے بڑا خسارہ اٹھاتا ہے۔
دنیا اور آخرت کا خسارہ
دنیا میں سب سے بڑا خسارہ یہ ہے کہ فرد اپنی زندگی ہی گنوا بیٹھے۔
زندگی، جو ایک نعمت ہے، جب غفلت، گناہ، یا مقصد سے خالی گزر جائے تو انسان گویا اپنی سانسوں کی تجارت میں گھاٹا کھا لیتا ہے۔
اور آخرت کا سب سے بڑا خسارہ وہ ہے جب عدل کی میزان میں اس کے خسارے والا پلڑا بھاری نکلے۔
قرآن کہتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
(الزمر: 15) بے شک سب سے بڑے خسارے والے وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو گنوا دیا۔
وہ دن جب اعمال کا حساب ہوگا، جب ہر نیکی اور بدی کا پلڑا الگ الگ تولاجائے گا، تب سب سے بڑا دکھ یہی ہوگا کہ بندے کے ہاتھ خالی ہوں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خسارۂ ذات اپنی آخری شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
خود احتسابی — نجات کا راستہ
امام علیؓ نے فرمایا: “جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتا، وہ ہلاکت کے قریب ہے۔”
خسارۂ ذات سے بچنے کا یہی واحد راستہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کا روزانہ جائزہ لے۔ جو اپنی نیت کو پاک رکھے، اپنے عمل کو درست کرے، اپنے وعدے نبھائے اور اپنے دل کو سچائی سے جوڑے رکھے — وہ کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔
اختتامی بات
دنیا کے بازار میں ہر چیز کا مول ہے، مگر انسان کی ذات کا مول صرف اس کا کردار اور ایمان ہے۔
جو شخص اپنی روح کی قدر سمجھ لے، وہ کبھی خسارہ نہیں اٹھاتا۔
قرآن نے انسان کو متنبہ کیا ہے کہ وقت گزر رہا ہے، زندگی کم ہو رہی ہے، اور نفع و نقصان کا فیصلہ قریب ہے۔ اب یہ انسان پر ہے کہ وہ اپنا پلڑا بھاری کرتا ہے یا ہلکا۔
دنیا کا سب سے بڑا خسارہ زندگی گنوا دینا ہے، اور آخرت کا سب سے بڑا خسارہ یہ ہے کہ میزانِ عدل میں انسان کا خسارے والا پلڑا بھاری نکلے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں