الرعد: ایت 11



 

قرآنِ مجید کا یہ اعلان کہ:

’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لے آئے۔‘‘ (الرعد: 11)

محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور تبدیلی کے ایک آفاقی اصول کی طرف اشارہ بھی ہے۔ یہ آیت انسان کو اس بنیادی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ بیرونی دنیا میں پائیدار تبدیلی کا آغاز انسان کے باطن سے ہوتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جدید نیورو سائنس بھی گزشتہ چند دہائیوں میں ایک ایسی ہی حقیقت تک پہنچی ہے۔

کبھی سائنس دانوں کا خیال تھا کہ بالغ ہونے کے بعد انسانی دماغ تقریباً ایک جامد ساخت اختیار کر لیتا ہے، مگر بیسویں صدی کے آخری عشروں میں ہونے والی تحقیقات نے اس تصور کو بدل دیا۔ ماہرینِ اعصاب نے دریافت کیا کہ انسانی دماغ مسلسل تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صلاحیت کو نیورو پلاسٹیسٹی 

 کہا جاتا ہے۔

نیورو پلاسٹیسٹی سے مراد یہ ہے کہ انسان کے خیالات، عادات، جذبات اور مسلسل دہرائے جانے والے اعمال دماغ کے عصبی راستوں 

 کو بدل سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص روزانہ ایک ہی طرزِ فکر اختیار کرتا ہے، تو دماغ کے مخصوص عصبی خلیوں کے درمیان روابط مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ اسی لیے خوف، مایوسی، غصہ یا امید اور خود اعتمادی، سب آہستہ آہستہ انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔

کینیڈا کے ماہرِ نفسیات ڈونلڈ ہیب نے 1949ء میں ایک اصول پیش کیا تھا جسے آج مختصراً یوں بیان کیا جاتا ہے

کہ عصبی خلیے جو بار بار ایک ساتھ متحرک ہوتے ہیں، آپس میں مضبوط تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی عادت ابتدا میں مشکل محسوس ہوتی ہے، لیکن مسلسل مشق کے بعد وہ انسان کی فطرت بن جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ انسان اپنے اندر تبدیلی کیسے پیدا کر سکتا ہے؟

نیورو سائنس اس تبدیلی کے کم از کم پانچ بنیادی مراحل بیان کرتی ہے۔

پہلا مرحلہ: شعور اور خود آگہی

دماغ اس وقت تک کسی عادت کو تبدیل نہیں کر سکتا جب تک انسان اس کا ادراک نہ کرے۔ جب کوئی شخص اپنی کمزوریوں، منفی خیالات اور تباہ کن رویّوں کو پہچان لیتا ہے تو دماغ کے وہ حصے متحرک ہوتے ہیں جو خود احتسابی اور فیصلہ سازی سے متعلق ہیں، خصوصاً پری فرنٹل کارٹیکس

دوسرا مرحلہ: چھوٹی مگر مسلسل تبدیلی

دماغ انقلابی تبدیلیوں کے مقابلے میں تدریجی تبدیلیوں کو زیادہ آسانی سے قبول کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایک ہی دن میں اپنی پوری زندگی بدلنے کی کوشش کرے تو اکثر ناکام ہو جاتا ہے، لیکن روزانہ صرف دس منٹ مطالعہ، پندرہ منٹ ورزش یا ایک نئی عادت دماغ میں نئے عصبی راستے پیدا کرنا شروع کر دیتی ہے۔

تیسرا مرحلہ: خیالات کی زبان بدلنا

نیورو سائنس اور نفسیات دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی اندرونی گفتگو اس کے دماغی ڈھانچے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص ہر وقت یہ کہتا رہے کہ ’’میں ناکام ہوں‘‘ یا ’’میں کبھی نہیں بدل سکتا‘‘ تو اس کے دماغ میں انہی خیالات کے راستے مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر وہ خود سے کہے کہ ’’میں سیکھ رہا ہوں‘‘، ’’میں بہتر ہو سکتا ہوں‘‘ اور ’’تبدیلی ممکن ہے‘‘ تو دماغ نئے امکانات کے لیے خود کو تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔

چوتھا مرحلہ: ماحول کی تشکیل

انسان کا دماغ اپنے ماحول سے مسلسل سیکھتا رہتا ہے۔ دوست، کتابیں، سوشل میڈیا، روزمرہ گفتگو اور معمولات سب مل کر دماغ کے اندر نئے نقش بناتے ہیں۔ اسی لیے ماحول کی تبدیلی اکثر شخصیت کی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوتی ہے۔

پانچواں مرحلہ: تکرار اور صبر

نیورو سائنس دانوں کے مطابق دماغ میں نئے عصبی راستوں کو مضبوط ہونے میں وقت لگتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق نئی عادت کو مستحکم ہونے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات مہینے لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی تبدیلی جوش کے ایک لمحے سے نہیں بلکہ مسلسل کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔

یہاں قرآن کی مذکورہ آیت ایک نئے زاویے سے سمجھ میں آتی ہے۔ آیت یہ نہیں کہتی کہ انسان اپنی تقدیر کا مکمل خالق ہے، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ اللہ نے انسان کو یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ اپنے خیالات، عادات اور رویّوں کو بدلنے کی کوشش کرے۔ جب انسان اپنے باطن میں تبدیلی کا سفر شروع کرتا ہے تو اس کے اثرات رفتہ رفتہ اس کی شخصیت، اس کے خاندان اور پوری معاشرت پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو ’’اپنے اندر تبدیلی‘‘ محض ایک روحانی یا اخلاقی مطالبہ نہیں، بلکہ انسانی دماغ کی حیاتیاتی ساخت میں پوشیدہ ایک صلاحیت بھی ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ میں ہر بڑی تبدیلی کسی جنگ، انقلاب یا قانون سے پہلے انسان کے ذہن اور اس کے باطن میں جنم لیتی ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غلام سے نجات ولوانے کا صلہ

صرف یہود نہیں، ہم بھی