اشاعتیں

جولائی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

القیامہ آئت 36

تصویر
  قرآن کا انسان سے ایک بنیادی سوال اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ مذہب انسان کو سوال کرنے سے روکتا ہے، اسے غوروفکر کے بجائے محض تقلید کا درس دیتا ہے اور عقل کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ لیکن قرآن کا مطالعہ اس تاثر کو یکسر بدل دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن محض احکام کی کتاب نہیں، بلکہ سوالات کی کتاب بھی ہے۔ اس میں بار بار انسان کو کائنات، اپنی ذات، تاریخ، زندگی اور موت کے بارے میں سوچنے کی دعوت دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود خالقِ کائنات اپنے بندوں سے مسلسل سوال کرتا ہے۔ سورۂ قیامہ کی چھتیسویں آیت بھی ایک ایسا ہی سوال ہے: **﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى﴾** ’’کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟‘‘ یہ سوال محض مذہبی نہیں، بلکہ فلسفے، اخلاقیات اور انسانی وجود کے پورے تصور سے متعلق ہے۔ قرآن انسان سے پوچھتا ہے: کیا وہ واقعی یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، اس کے اعمال کی کوئی جواب دہی نہیں اور موت کے بعد اس سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا؟ اس سوال کی معنویت کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے لفظ ’’سُدی‘‘ کو جاننا ضروری ہے۔ عربوں کے ہاں جب کوئی اونٹنی اپن...

الرعد: ایت 11

تصویر
  قرآنِ مجید کا یہ اعلان کہ: ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لے آئے۔‘‘ (الرعد: 11) محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور تبدیلی کے ایک آفاقی اصول کی طرف اشارہ بھی ہے۔ یہ آیت انسان کو اس بنیادی حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ بیرونی دنیا میں پائیدار تبدیلی کا آغاز انسان کے باطن سے ہوتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جدید نیورو سائنس بھی گزشتہ چند دہائیوں میں ایک ایسی ہی حقیقت تک پہنچی ہے۔ کبھی سائنس دانوں کا خیال تھا کہ بالغ ہونے کے بعد انسانی دماغ تقریباً ایک جامد ساخت اختیار کر لیتا ہے، مگر بیسویں صدی کے آخری عشروں میں ہونے والی تحقیقات نے اس تصور کو بدل دیا۔ ماہرینِ اعصاب نے دریافت کیا کہ انسانی دماغ مسلسل تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صلاحیت کو نیورو پلاسٹیسٹی    کہا جاتا ہے۔ نیورو پلاسٹیسٹی سے مراد یہ ہے کہ انسان کے خیالات، عادات، جذبات اور مسلسل دہرائے جانے والے اعمال دماغ کے عصبی راستوں   کو بدل سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص روزانہ ایک ہی طرزِ فکر اختیار کرتا ہے، تو دماغ کے مخصوص عصبی خلیوں کے درمیان روابط مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ ...