مانو یا انکار کر دو

 




دنیا کے بیشتر غیر الہامی معاشرے انسان کو بدلنے کے لیے ریاستی جبر، قانون، اور سزا کا سہارا لیتے ہیں۔ وہاں تبدیلی ایک بیرونی قوت کے ذریعے مسلط کی جاتی ہے۔ لیکن اسلام کا طریقہ مختلف ہے — وہ انسان کے اندر سے آغاز کرتا ہے۔ اسلام ضمیر کو بیدار کرتا ہے، دل میں روشنی پیدا کرتا ہے، اور پھر وہ روشنی معاشرے میں پھیلتی ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ”
(سورہ الرعد: 11)
“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔”

یہ آیت انسانی آزادی، ذمہ داری اور خوداحتسابی کا منشور ہے۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ تبدیلی قانون کے کوڑے سے آئے، بلکہ ایمان کی روشنی سے ہو۔ جب انسان اپنے نفس سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارے گا، تو وہ خواہشات کے مقابل حق کو ترجیح دیتا ہے۔

قرآن کہتا ہے:
“فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ”
(سورہ الکہف: 29)
“پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔”
یہ اعلانِ آزادی دراصل اسلام کے جبر سے پاک ہونے کا ثبوت ہے۔ ایمان زبردستی نہیں، بلکہ دل کی رضا سے جنم لیتا ہے۔

اسلام انسان کو صرف دوسروں کے حقوق کی ذمہ داری نہیں دیتا بلکہ خود اپنی ذات کا نگہبان بھی بناتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“کُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”
(بخاری و مسلم)
“تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”

اور انسان کی پہلی رعیت خود اس کی اپنی ذات ہے — اس کا ضمیر، اس کا کردار، اس کی نیت۔ جو اپنے نفس کا محافظ نہیں، وہ دوسروں کے حقوق کی حفاظت کیسے کرے گا؟

حضرت عمرؓ کا قول ہے:
“اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔”
یہ دراصل اسلام کی روح ہے۔ اصلاح باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے۔

اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہے جہاں ایک انسان نے صرف اپنے ضمیر کے تقاضے پر اپنی خطا کا اعتراف کیا۔ ایک صحابیؓ نے زنا کا گناہ کیا تو ندامت کے بعد خود کو نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا تاکہ دنیا میں سزا پا کر آخرت میں معافی حاصل ہو۔ یہ ایمان کا وہ درجہ ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سامنے جھوٹا نہیں بننا چاہتا۔

ایسا معاشرہ، جہاں ہر فرد اپنے ضمیر کا قیدی ہو، وہاں نہ عورت کی عزت پامال ہوتی ہے، نہ کسی کا حق دبایا جاتا ہے، کیونکہ ہر شخص خود اپنے عمل کا نگہبان ہوتا ہے۔

امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
“جس نے اپنے دل کو پاک کر لیا، اس کے لیے دنیا کا فریب ختم ہو گیا۔”
یہ دل کی وہ پاکیزگی ہے جو انسان کو دوغلے پن سے آزاد کرتی ہے۔

میں نے اپنی زندگی میں جتنے مطمئن لوگ دیکھے ہیں، ان کے رویوں میں نرمی، معاملات میں آسانی، اخلاق میں حلاوت، اور نعمت پر شکر و محرومی پر صبر پایا ہے۔ سچائی کو تسلیم کرنا، اس کا اعتراف کرنا، اور اس کا ساتھ دینا انسان کے خیالات اور عقائد میں شفافیت پیدا کرتا ہے۔ سچائی انسان کو سادہ بناتی ہے، اور آپ اپنے گرد سچے لوگوں کو ہمیشہ سادہ اور بے تکلف پائیں گے۔

اسلام دراصل دل کی بیداری کا نام ہے۔ یہ قانون نہیں، ایمان کی روشنی سے پیدا ہونے والی اصلاح ہے — وہ روشنی جو باہر سے نہیں، دل کے اندر سے اٹھتی ہے۔ جب دل بدل جائے، تو معاشرہ خود بخود سنور جاتا ہے۔





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غلام سے نجات ولوانے کا صلہ

صرف یہود نہیں، ہم بھی

بھوک سے نجات