خسارۂ ذات
خسارۂ ذات دنیا کا ہر انسان اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں نفع اور نقصان کے تجربے سے گزرتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا نقصان وہ نہیں جو جیب سے ہوتا ہے، بلکہ وہ ہے جو انسان کے وجود کے اندر ہوتا ہے جسے قرآن کی زبان میں “خسارہ” کہا گیا ہے۔ یہ خسارۂ ذات ہے، جب انسان اپنی سچائی، اپنی روحانیت، اپنے ضمیر اور اپنی انسانیت سے دور جا پڑتا ہے۔ ایک مزدور اگر دن بھر پسینہ بہائے اور شام کو اجرت نہ پائے، تو یہ اس کے وجود کا خسارہ ہے۔ ایک ملازم پورا سال محنت کرے مگر ترقی کی فہرست میں اس کا نام نہ ہو، تو یہ اس کے حوصلے کا نقصان ہے۔ ایک طالب علم سارا سال محنت کرے اور امتحان میں ناکام ہو جائے، تو یہ اس کی ذات کا زیاں ہے۔ ایک سرمایہ کار اپنی عقل کے مطابق سرمایہ لگائے اور بازار میں حصص گر جائیں، تو یہ اس کے اعتماد کا خسارہ ہے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر وہ لمحہ خطرناک ہے جب انسان اپنے ضمیر سے بے وفائی کرتا ہے۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے، وعدہ توڑتا ہے، یا حق جانتے ہوئے خاموش رہتا ہے - تب وہ اپنی ذات کی بنیاد کھو دیتا ہے۔ یہی اندرونی زوال خسارۂ ذات کہلاتا ہے۔ قرآن کا فلسفۂ خسارہ قرآن مجید انسان کے اس نقصان کو یوں بیان کر...